نئی دہلی،10؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) سپریم کورٹ نے آج گوا کی ایک عدالت کو ہدایت دی ہے کہ تہلکہ میگزین کے بانی ایڈیٹر ترون تیج پال کے خلاف عصمت دری کے الزام میں چل رہے مقدمہ کی سماعت ایک سال کے اندر پوری کی جائے ۔ تیج پال کے خلاف اپنی سابق خاتون ساتھی کی مبینہ آبروریزی کا کیس درج ہے۔ عدالت عظمی نے تیج پال سے کہا کہ عصمت دری کے الزامات کو خارج کرنے کیلئے دائر ان کی عرضی ممبئی ہائی کورٹ کے ذریعہ خارج کرنے کے 20 دسمبر 2017 کے فیصلہ کو چیلنج کرنے والی عرضی کی کاپی گوا حکومت کو دی جائے ۔جسٹس اے کے سیکڑی اور جسٹس اشوک بھوشن کی بینچ نے اس ہدایت کے ساتھ ہی تیج پال کی عرضی 24 اپریل تک کیلئے ملتوی کردی ۔ اس درمیان گوا حکومت کو تیج پال کی عرضی پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔عرضی پر سماعت کے دوران تیج پال کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ متاثرہ کے ذریعہ درج کرائے گئے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں کئی اختلافات ہیں ، مگر نچلی عدالت نے ان پر غور نہیں کیا۔ سبل نے موبائل فون کی کلون کاپی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم پر دو سال بعد انہیں یہ مہیا کرائی گئی ہے۔ بینچ نے سبل کے ذریعہ پیش دستاویزات کے تجزیہ کے بعد کہا کہ نچلی عدالت ثبوت درج کرتے وقت اس پر غور کرے گی ۔